وَٱلسَّمَآءِوَٱلطَّارِقِ﴿١﴾
wal-samāi wal-ṭāriqi
آسمان اور رات کے وقت آنے والے کی قسم
سورت 86 · 17 آیات
سورة الطارق
رات کو آنے والا
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
وَٱلسَّمَآءِوَٱلطَّارِقِ﴿١﴾
wal-samāi wal-ṭāriqi
آسمان اور رات کے وقت آنے والے کی قسم
وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا ٱلطَّارِقُ ﴿٢﴾
wamā adrāka mā l-ṭāriqu
اور تم کو کیا معلوم کہ رات کے وقت آنے والا کیا ہے
ٱلنَّجْمُ ٱلثَّاقِبُ ﴿٣﴾
al-najmu l-thāqibu
وہ تارا ہے چمکنے والا
إِن كُلُّ نَفْسٍ لَّمَّا عَلَيْهَا حَافِظٌ ﴿٤﴾
in kullu nafsin lammā ʿalayhā ḥāfiẓun
کہ کوئی متنفس نہیں جس پر نگہبان مقرر نہیں
فَلْيَنظُرِ ٱلْإِنسَـٰنُ مِمَّ خُلِقَ ﴿٥﴾
falyanẓuri l-insānu mimma khuliqa
تو انسان کو دیکھنا چاہئے کہ وہ کاہے سے پیدا ہوا ہے
خُلِقَ مِن مَّآءٍ دَافِقٍ ﴿٦﴾
khuliqa min māin dāfiqin
وہ اچھلتے ہوئے پانی سے پیدا ہوا ہے
يَخْرُجُ مِنۢ بَيْنِ ٱلصُّلْبِ وَٱلتَّرَآئِبِ ﴿٧﴾
yakhruju min bayni l-ṣul'bi wal-tarāibi
جو پیٹھ اور سینے کے بیچ میں سے نکلتا ہے
إِنَّهُۥ عَلَىٰ رَجْعِهِۦ لَقَادِرٌ ﴿٨﴾
innahu ʿalā rajʿihi laqādirun
بےشک خدا اس کے اعادے (یعنی پھر پیدا کرنے) پر قادر ہے
يَوْمَ تُبْلَى ٱلسَّرَآئِرُ ﴿٩﴾
yawma tub'lā l-sarāiru
جس دن دلوں کے بھید جانچے جائیں گے
فَمَا لَهُۥ مِن قُوَّةٍ وَلَا نَاصِرٍ ﴿١٠﴾
famā lahu min quwwatin walā nāṣirin
تو انسان کی کچھ پیش نہ چل سکے گی اور نہ کوئی اس کا مددگار ہو گا
وَٱلسَّمَآءِ ذَاتِ ٱلرَّجْعِ ﴿١١﴾
wal-samāi dhāti l-rajʿi
آسمان کی قسم جو مینہ برساتا ہے
وَٱلْأَرْضِ ذَاتِ ٱلصَّدْعِ ﴿١٢﴾
wal-arḍi dhāti l-ṣadʿi
اور زمین کی قسم جو پھٹ جاتی ہے
إِنَّهُۥ لَقَوْلٌ فَصْلٌ ﴿١٣﴾
innahu laqawlun faṣlun
کہ یہ کلام (حق کو باطل سے) جدا کرنے والا ہے
وَمَا هُوَ بِٱلْهَزْلِ ﴿١٤﴾
wamā huwa bil-hazli
اور بیہودہ بات نہیں ہے
إِنَّهُمْ يَكِيدُونَ كَيْدًا ﴿١٥﴾
innahum yakīdūna kaydan
یہ لوگ تو اپنی تدبیروں میں لگ رہے ہیں
وَأَكِيدُ كَيْدًا ﴿١٦﴾
wa-akīdu kaydan
اور ہم اپنی تدبیر کر رہے ہیں
فَمَهِّلِ ٱلْكَـٰفِرِينَ أَمْهِلْهُمْ رُوَيْدًۢا ﴿١٧﴾
famahhili l-kāfirīna amhil'hum ruwaydan
تو تم کافروں کو مہلت دو بس چند روز ہی مہلت دو