وَيْلٌۭلِّلْمُطَفِّفِينَ﴿١﴾
waylun lil'muṭaffifīna
ناپ اور تول میں کمی کرنے والوں کے لیے خرابی ہے
سورت 83 · 36 آیات
سورة المطففين
ناپ تول میں کمی کرنے والے
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
وَيْلٌۭلِّلْمُطَفِّفِينَ﴿١﴾
waylun lil'muṭaffifīna
ناپ اور تول میں کمی کرنے والوں کے لیے خرابی ہے
ٱلَّذِينَ إِذَا ٱكْتَالُوا۟ عَلَى ٱلنَّاسِ يَسْتَوْفُونَ ﴿٢﴾
alladhīna idhā ik'tālū ʿalā l-nāsi yastawfūna
جو لوگوں سے ناپ کر لیں تو پورا لیں
وَإِذَا كَالُوهُمْ أَو وَّزَنُوهُمْ يُخْسِرُونَ ﴿٣﴾
wa-idhā kālūhum aw wazanūhum yukh'sirūna
اور جب ان کو ناپ کر یا تول کر دیں تو کم کر دیں
أَلَا يَظُنُّ أُو۟لَـٰٓئِكَ أَنَّهُم مَّبْعُوثُونَ ﴿٤﴾
alā yaẓunnu ulāika annahum mabʿūthūna
کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ اٹھائے بھی جائیں گے
لِيَوْمٍ عَظِيمٍ ﴿٥﴾
liyawmin ʿaẓīmin
(یعنی) ایک بڑے (سخت) دن میں
يَوْمَ يَقُومُ ٱلنَّاسُ لِرَبِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ ﴿٦﴾
yawma yaqūmu l-nāsu lirabbi l-ʿālamīna
جس دن (تمام) لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے
كَلَّآ إِنَّ كِتَـٰبَ ٱلْفُجَّارِ لَفِى سِجِّينٍ ﴿٧﴾
kallā inna kitāba l-fujāri lafī sijjīnin
سن رکھو کہ بدکارروں کے اعمال سجّین میں ہیں
وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا سِجِّينٌ ﴿٨﴾
wamā adrāka mā sijjīnun
اور تم کیا جانتے ہوں کہ سجّین کیا چیز ہے؟
كِتَـٰبٌ مَّرْقُومٌ ﴿٩﴾
kitābun marqūmun
ایک دفتر ہے لکھا ہوا
وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ ﴿١٠﴾
waylun yawma-idhin lil'mukadhibīna
اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے
ٱلَّذِينَ يُكَذِّبُونَ بِيَوْمِ ٱلدِّينِ ﴿١١﴾
alladhīna yukadhibūna biyawmi l-dīni
(یعنی) جو انصاف کے دن کو جھٹلاتے ہیں
وَمَا يُكَذِّبُ بِهِۦٓ إِلَّا كُلُّ مُعْتَدٍ أَثِيمٍ ﴿١٢﴾
wamā yukadhibu bihi illā kullu muʿ'tadin athīmin
اور اس کو جھٹلاتا وہی ہے جو حد سے نکل جانے والا گنہگار ہے
إِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِ ءَايَـٰتُنَا قَالَ أَسَـٰطِيرُ ٱلْأَوَّلِينَ ﴿١٣﴾
idhā tut'lā ʿalayhi āyātunā qāla asāṭīru l-awalīna
جب اس کو ہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو اگلے لوگوں کے افسانے ہیں
كَلَّا ۖ بَلْ ۜ رَانَ عَلَىٰ قُلُوبِهِم مَّا كَانُوا۟ يَكْسِبُونَ ﴿١٤﴾
kallā bal rāna ʿalā qulūbihim mā kānū yaksibūna
دیکھو یہ جو (اعمال بد) کرتے ہیں ان کا ان کے دلوں پر زنگ بیٹھ گیا ہے
كَلَّآ إِنَّهُمْ عَن رَّبِّهِمْ يَوْمَئِذٍ لَّمَحْجُوبُونَ ﴿١٥﴾
kallā innahum ʿan rabbihim yawma-idhin lamaḥjūbūna
بےشک یہ لوگ اس روز اپنے پروردگار (کے دیدار) سے اوٹ میں ہوں گے
ثُمَّ إِنَّهُمْ لَصَالُوا۟ ٱلْجَحِيمِ ﴿١٦﴾
thumma innahum laṣālū l-jaḥīmi
پھر دوزخ میں جا داخل ہوں گے
ثُمَّ يُقَالُ هَـٰذَا ٱلَّذِى كُنتُم بِهِۦ تُكَذِّبُونَ ﴿١٧﴾
thumma yuqālu hādhā alladhī kuntum bihi tukadhibūna
پھر ان سے کہا جائے گا کہ یہ وہی چیز ہے جس کو تم جھٹلاتے تھے
كَلَّآ إِنَّ كِتَـٰبَ ٱلْأَبْرَارِ لَفِى عِلِّيِّينَ ﴿١٨﴾
kallā inna kitāba l-abrāri lafī ʿilliyyīna
(یہ بھی) سن رکھو کہ نیکوکاروں کے اعمال علیین میں ہیں
وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا عِلِّيُّونَ ﴿١٩﴾
wamā adrāka mā ʿilliyyūna
اور تم کو کیا معلوم کہ علیین کیا چیز ہے؟
كِتَـٰبٌ مَّرْقُومٌ ﴿٢٠﴾
kitābun marqūmun
ایک دفتر ہے لکھا ہوا
يَشْهَدُهُ ٱلْمُقَرَّبُونَ ﴿٢١﴾
yashhaduhu l-muqarabūna
جس کے پاس مقرب (فرشتے) حاضر رہتے ہیں
إِنَّ ٱلْأَبْرَارَ لَفِى نَعِيمٍ ﴿٢٢﴾
inna l-abrāra lafī naʿīmin
بےشک نیک لوگ چین میں ہوں گے
عَلَى ٱلْأَرَآئِكِ يَنظُرُونَ ﴿٢٣﴾
ʿalā l-arāiki yanẓurūna
تختوں پر بیٹھے ہوئے نظارے کریں گے
تَعْرِفُ فِى وُجُوهِهِمْ نَضْرَةَ ٱلنَّعِيمِ ﴿٢٤﴾
taʿrifu fī wujūhihim naḍrata l-naʿīmi
تم ان کے چہروں ہی سے راحت کی تازگی معلوم کر لو گے
يُسْقَوْنَ مِن رَّحِيقٍ مَّخْتُومٍ ﴿٢٥﴾
yus'qawna min raḥīqin makhtūmin
ان کو خالص شراب سربمہر پلائی جائے گی
خِتَـٰمُهُۥ مِسْكٌ ۚ وَفِى ذَٰلِكَ فَلْيَتَنَافَسِ ٱلْمُتَنَـٰفِسُونَ ﴿٢٦﴾
khitāmuhu mis'kun wafī dhālika falyatanāfasi l-mutanāfisūna
جس کی مہر مشک کی ہو گی تو (نعمتوں کے) شائقین کو چاہیے کہ اسی سے رغبت کریں
وَمِزَاجُهُۥ مِن تَسْنِيمٍ ﴿٢٧﴾
wamizājuhu min tasnīmin
اور اس میں تسنیم (کے پانی) کی آمیزش ہو گی
عَيْنًا يَشْرَبُ بِهَا ٱلْمُقَرَّبُونَ ﴿٢٨﴾
ʿaynan yashrabu bihā l-muqarabūna
وہ ایک چشمہ ہے جس میں سے (خدا کے) مقرب پیئیں گے
إِنَّ ٱلَّذِينَ أَجْرَمُوا۟ كَانُوا۟ مِنَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ يَضْحَكُونَ ﴿٢٩﴾
inna alladhīna ajramū kānū mina alladhīna āmanū yaḍḥakūna
جو گنہگار (یعنی کفار) ہیں وہ (دنیا میں) مومنوں سے ہنسی کیا کرتے تھے
وَإِذَا مَرُّوا۟ بِهِمْ يَتَغَامَزُونَ ﴿٣٠﴾
wa-idhā marrū bihim yataghāmazūna
اور جب ان کے پاس سے گزرتے تو حقارت سے اشارے کرتے
وَإِذَا ٱنقَلَبُوٓا۟ إِلَىٰٓ أَهْلِهِمُ ٱنقَلَبُوا۟ فَكِهِينَ ﴿٣١﴾
wa-idhā inqalabū ilā ahlihimu inqalabū fakihīna
اور جب اپنے گھر کو لوٹتے تو اتراتے ہوئے لوٹتے
وَإِذَا رَأَوْهُمْ قَالُوٓا۟ إِنَّ هَـٰٓؤُلَآءِ لَضَآلُّونَ ﴿٣٢﴾
wa-idhā ra-awhum qālū inna hāulāi laḍāllūna
اور جب ان( مومنوں) کو دیکھتے تو کہتے کہ یہ تو گمراہ ہیں
وَمَآ أُرْسِلُوا۟ عَلَيْهِمْ حَـٰفِظِينَ ﴿٣٣﴾
wamā ur'silū ʿalayhim ḥāfiẓīna
حالانکہ وہ ان پر نگراں بنا کر نہیں بھیجے گئے تھے
فَٱلْيَوْمَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مِنَ ٱلْكُفَّارِ يَضْحَكُونَ ﴿٣٤﴾
fal-yawma alladhīna āmanū mina l-kufāri yaḍḥakūna
تو آج مومن کافروں سے ہنسی کریں گے
عَلَى ٱلْأَرَآئِكِ يَنظُرُونَ ﴿٣٥﴾
ʿalā l-arāiki yanẓurūna
(اور) تختوں پر (بیٹھے ہوئے ان کا حال) دیکھ رہے ہوں گے
هَلْ ثُوِّبَ ٱلْكُفَّارُ مَا كَانُوا۟ يَفْعَلُونَ ﴿٣٦﴾
hal thuwwiba l-kufāru mā kānū yafʿalūna
تو کافروں کو ان کے عملوں کا (پورا پورا )بدلہ مل گیا