هَلْأَتَىٰعَلَىٱلْإِنسَـٰنِحِينٌۭمِّنَٱلدَّهْرِلَمْيَكُنشَيْـًۭٔامَّذْكُورًا﴿١﴾
hal atā ʿalā l-insāni ḥīnun mina l-dahri lam yakun shayan madhkūran
بےشک انسان پر زمانے میں ایک ایسا وقت بھی آچکا ہے کہ وہ کوئی چیز قابل ذکر نہ تھی
سورت 76 · 31 آیات
سورة الانسان
انسان
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
هَلْأَتَىٰعَلَىٱلْإِنسَـٰنِحِينٌۭمِّنَٱلدَّهْرِلَمْيَكُنشَيْـًۭٔامَّذْكُورًا﴿١﴾
hal atā ʿalā l-insāni ḥīnun mina l-dahri lam yakun shayan madhkūran
بےشک انسان پر زمانے میں ایک ایسا وقت بھی آچکا ہے کہ وہ کوئی چیز قابل ذکر نہ تھی
إِنَّا خَلَقْنَا ٱلْإِنسَـٰنَ مِن نُّطْفَةٍ أَمْشَاجٍ نَّبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَـٰهُ سَمِيعًۢا بَصِيرًا ﴿٢﴾
innā khalaqnā l-insāna min nuṭ'fatin amshājin nabtalīhi fajaʿalnāhu samīʿan baṣīran
ہم نے انسان کو نطفہٴ مخلوط سے پیدا کیا تاکہ اسے آزمائیں تو ہم نے اس کو سنتا دیکھتا بنایا
إِنَّا هَدَيْنَـٰهُ ٱلسَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا ﴿٣﴾
innā hadaynāhu l-sabīla immā shākiran wa-immā kafūran
(اور) اسے رستہ بھی دکھا دیا۔ (اب) وہ خواہ شکرگزار ہو خواہ ناشکرا
إِنَّآ أَعْتَدْنَا لِلْكَـٰفِرِينَ سَلَـٰسِلَا۟ وَأَغْلَـٰلًا وَسَعِيرًا ﴿٤﴾
innā aʿtadnā lil'kāfirīna salāsilā wa-aghlālan wasaʿīran
ہم نے کافروں کے لئے زنجیر اور طوق اور دہکتی آگ تیار کر رکھی ہے
إِنَّ ٱلْأَبْرَارَ يَشْرَبُونَ مِن كَأْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُورًا ﴿٥﴾
inna l-abrāra yashrabūna min kasin kāna mizājuhā kāfūran
جو نیکو کار ہیں اور وہ ایسی شراب نوش جان کریں گے جس میں کافور کی آمیزش ہوگی
عَيْنًا يَشْرَبُ بِهَا عِبَادُ ٱللَّهِ يُفَجِّرُونَهَا تَفْجِيرًا ﴿٦﴾
ʿaynan yashrabu bihā ʿibādu l-lahi yufajjirūnahā tafjīran
یہ ایک چشمہ ہے جس میں سے خدا کے بندے پئیں گے اور اس میں سے (چھوٹی چھوٹی) نہریں نکالیں گے
يُوفُونَ بِٱلنَّذْرِ وَيَخَافُونَ يَوْمًا كَانَ شَرُّهُۥ مُسْتَطِيرًا ﴿٧﴾
yūfūna bil-nadhri wayakhāfūna yawman kāna sharruhu mus'taṭīran
یہ لوگ نذریں پوری کرتے ہیں اور اس دن سے جس کی سختی پھیل رہی ہوگی خوف رکھتے ہیں
وَيُطْعِمُونَ ٱلطَّعَامَ عَلَىٰ حُبِّهِۦ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا ﴿٨﴾
wayuṭ'ʿimūna l-ṭaʿāma ʿalā ḥubbihi mis'kīnan wayatīman wa-asīran
اور باوجود یہ کہ ان کو خود طعام کی خواہش (اور حاجت) ہے فقیروں اور یتیموں اور قیدیوں کو کھلاتے ہیں
إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ ٱللَّهِ لَا نُرِيدُ مِنكُمْ جَزَآءً وَلَا شُكُورًا ﴿٩﴾
innamā nuṭ'ʿimukum liwajhi l-lahi lā nurīdu minkum jazāan walā shukūran
(اور کہتے ہیں کہ) ہم تم کو خالص خدا کے لئے کھلاتے ہیں۔ نہ تم سے عوض کے خواستگار ہیں نہ شکرگزاری کے (طلبگار)
إِنَّا نَخَافُ مِن رَّبِّنَا يَوْمًا عَبُوسًا قَمْطَرِيرًا ﴿١٠﴾
innā nakhāfu min rabbinā yawman ʿabūsan qamṭarīran
ہم کو اپنے پروردگار سے اس دن کا ڈر لگتا ہے (جو چہروں کو) کریہہ المنظر اور (دلوں کو) سخت (مضطر کر دینے والا) ہے
فَوَقَىٰهُمُ ٱللَّهُ شَرَّ ذَٰلِكَ ٱلْيَوْمِ وَلَقَّىٰهُمْ نَضْرَةً وَسُرُورًا ﴿١١﴾
fawaqāhumu l-lahu sharra dhālika l-yawmi walaqqāhum naḍratan wasurūran
تو خدا ان کو اس دن کی سختی سے بچالے گا اور تازگی اور خوش دلی عنایت فرمائے گا
وَجَزَىٰهُم بِمَا صَبَرُوا۟ جَنَّةً وَحَرِيرًا ﴿١٢﴾
wajazāhum bimā ṣabarū jannatan waḥarīran
اور ان کے صبر کے بدلے ان کو بہشت (کے باغات) اور ریشم (کے ملبوسات) عطا کرے گا
مُّتَّكِـِٔينَ فِيهَا عَلَى ٱلْأَرَآئِكِ ۖ لَا يَرَوْنَ فِيهَا شَمْسًا وَلَا زَمْهَرِيرًا ﴿١٣﴾
muttakiīna fīhā ʿalā l-arāiki lā yarawna fīhā shamsan walā zamharīran
ان میں وہ تختوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے۔ وہاں نہ دھوپ (کی حدت) دیکھیں گے نہ سردی کی شدت
وَدَانِيَةً عَلَيْهِمْ ظِلَـٰلُهَا وَذُلِّلَتْ قُطُوفُهَا تَذْلِيلًا ﴿١٤﴾
wadāniyatan ʿalayhim ẓilāluhā wadhullilat quṭūfuhā tadhlīlan
ان سے (ثمردار شاخیں اور) ان کے سائے قریب ہوں گے اور میوؤں کے گچھے جھکے ہوئے لٹک رہے ہوں گے
وَيُطَافُ عَلَيْهِم بِـَٔانِيَةٍ مِّن فِضَّةٍ وَأَكْوَابٍ كَانَتْ قَوَارِيرَا۠ ﴿١٥﴾
wayuṭāfu ʿalayhim biāniyatin min fiḍḍatin wa-akwābin kānat qawārīrā
خدام) چاندی کے باسن لئے ہوئے ان کے اردگرد پھریں گے اور شیشے کے (نہایت شفاف) گلاس
قَوَارِيرَا۟ مِن فِضَّةٍ قَدَّرُوهَا تَقْدِيرًا ﴿١٦﴾
qawārīrā min fiḍḍatin qaddarūhā taqdīran
اور شیشے بھی چاندی کے جو ٹھیک اندازے کے مطابق بنائے گئے ہیں
وَيُسْقَوْنَ فِيهَا كَأْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنجَبِيلًا ﴿١٧﴾
wayus'qawna fīhā kasan kāna mizājuhā zanjabīlan
اور وہاں ان کو ایسی شراب (بھی) پلائی جائے گی جس میں سونٹھ کی آمیزش ہوگی
عَيْنًا فِيهَا تُسَمَّىٰ سَلْسَبِيلًا ﴿١٨﴾
ʿaynan fīhā tusammā salsabīlan
یہ بہشت میں ایک چشمہ ہے جس کا نام سلسبیل ہے
۞ وَيَطُوفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَٰنٌ مُّخَلَّدُونَ إِذَا رَأَيْتَهُمْ حَسِبْتَهُمْ لُؤْلُؤًا مَّنثُورًا ﴿١٩﴾
wayaṭūfu ʿalayhim wil'dānun mukhalladūna idhā ra-aytahum ḥasib'tahum lu'lu-an manthūran
اور ان کے پاس لڑکے آتے جاتے ہوں گے جو ہمیشہ (ایک ہی حالت پر) رہیں گے۔ جب تم ان پر نگاہ ڈالو تو خیال کرو کہ بکھرے ہوئے موتی ہیں
وَإِذَا رَأَيْتَ ثَمَّ رَأَيْتَ نَعِيمًا وَمُلْكًا كَبِيرًا ﴿٢٠﴾
wa-idhā ra-ayta thamma ra-ayta naʿīman wamul'kan kabīran
اور بہشت میں (جہاں) آنکھ اٹھاؤ گے کثرت سے نعمت اور عظیم (الشان) سلطنت دیکھو گے
عَـٰلِيَهُمْ ثِيَابُ سُندُسٍ خُضْرٌ وَإِسْتَبْرَقٌ ۖ وَحُلُّوٓا۟ أَسَاوِرَ مِن فِضَّةٍ وَسَقَىٰهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُورًا ﴿٢١﴾
ʿāliyahum thiyābu sundusin khuḍ'run wa-is'tabraqun waḥullū asāwira min fiḍḍatin wasaqāhum rabbuhum sharāban ṭahūran
ان (کے بدنوں) پر دیبا سبز اور اطلس کے کپڑے ہوں گے۔ اور انہیں چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے اور ان کا پروردگار ان کو نہایت پاکیزہ شراب پلائے گا
إِنَّ هَـٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَآءً وَكَانَ سَعْيُكُم مَّشْكُورًا ﴿٢٢﴾
inna hādhā kāna lakum jazāan wakāna saʿyukum mashkūran
یہ تمہارا صلہ اور تمہاری کوشش (خدا کے ہاں) مقبول ہوئی
إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ ٱلْقُرْءَانَ تَنزِيلًا ﴿٢٣﴾
innā naḥnu nazzalnā ʿalayka l-qur'āna tanzīlan
اے محمد(ﷺ) ہم نے تم پر قرآن آہستہ آہستہ نازل کیا ہے
فَٱصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَلَا تُطِعْ مِنْهُمْ ءَاثِمًا أَوْ كَفُورًا ﴿٢٤﴾
fa-iṣ'bir liḥuk'mi rabbika walā tuṭiʿ min'hum āthiman aw kafūran
تو اپنے پروردگار کے حکم کے مطابق صبر کئے رہو اور ان لوگوں میں سے کسی بد عمل اور ناشکرے کا کہا نہ مانو
وَٱذْكُرِ ٱسْمَ رَبِّكَ بُكْرَةً وَأَصِيلًا ﴿٢٥﴾
wa-udh'kuri is'ma rabbika buk'ratan wa-aṣīlan
اور صبح وشام اپنے پروردگار کا نام لیتے رہو
وَمِنَ ٱلَّيْلِ فَٱسْجُدْ لَهُۥ وَسَبِّحْهُ لَيْلًا طَوِيلًا ﴿٢٦﴾
wamina al-layli fa-us'jud lahu wasabbiḥ'hu laylan ṭawīlan
اور رات کو بڑی رات تک سجدے کرو اور اس کی پاکی بیان کرتے رہو
إِنَّ هَـٰٓؤُلَآءِ يُحِبُّونَ ٱلْعَاجِلَةَ وَيَذَرُونَ وَرَآءَهُمْ يَوْمًا ثَقِيلًا ﴿٢٧﴾
inna hāulāi yuḥibbūna l-ʿājilata wayadharūna warāahum yawman thaqīlan
یہ لوگ دنیا کو دوست رکھتے ہیں اور (قیامت کے) بھاری دن کو پس پشت چھوڑے دیتے ہیں
نَّحْنُ خَلَقْنَـٰهُمْ وَشَدَدْنَآ أَسْرَهُمْ ۖ وَإِذَا شِئْنَا بَدَّلْنَآ أَمْثَـٰلَهُمْ تَبْدِيلًا ﴿٢٨﴾
naḥnu khalaqnāhum washadadnā asrahum wa-idhā shi'nā baddalnā amthālahum tabdīlan
ہم نے ان کو پیدا کیا اور ان کے مقابل کو مضبوط بنایا۔ اور اگر ہم چاہیں تو ان کے بدلے ان ہی کی طرح اور لوگ لے آئیں
إِنَّ هَـٰذِهِۦ تَذْكِرَةٌ ۖ فَمَن شَآءَ ٱتَّخَذَ إِلَىٰ رَبِّهِۦ سَبِيلًا ﴿٢٩﴾
inna hādhihi tadhkiratun faman shāa ittakhadha ilā rabbihi sabīlan
یہ تو نصیحت ہے۔ جو چاہے اپنے پروردگار کی طرف پہنچنے کا رستہ اختیار کرے
وَمَا تَشَآءُونَ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا ﴿٣٠﴾
wamā tashāūna illā an yashāa l-lahu inna l-laha kāna ʿalīman ḥakīman
اور تم کچھ بھی نہیں چاہ سکتے مگر جو خدا کو منظور ہو۔ بےشک خدا جاننے والا حکمت والا ہے
يُدْخِلُ مَن يَشَآءُ فِى رَحْمَتِهِۦ ۚ وَٱلظَّـٰلِمِينَ أَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا أَلِيمًۢا ﴿٣١﴾
yud'khilu man yashāu fī raḥmatihi wal-ẓālimīna aʿadda lahum ʿadhāban alīman
جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرلیتا ہے اور ظالموں کے لئے اس نے دکھ دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے