يَـٰٓأَيُّهَاٱلْمُدَّثِّرُ﴿١﴾
yāayyuhā l-mudathiru
اے (محمدﷺ) جو کپڑا لپیٹے پڑے ہو
سورت 74 · 56 آیات
سورة المدثر
کپڑا اوڑھنے والا
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
يَـٰٓأَيُّهَاٱلْمُدَّثِّرُ﴿١﴾
yāayyuhā l-mudathiru
اے (محمدﷺ) جو کپڑا لپیٹے پڑے ہو
قُمْ فَأَنذِرْ ﴿٢﴾
qum fa-andhir
اُٹھو اور ہدایت کرو
وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ ﴿٣﴾
warabbaka fakabbir
اور اپنے پروردگار کی بڑائی کرو
وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ ﴿٤﴾
wathiyābaka faṭahhir
اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو
وَٱلرُّجْزَ فَٱهْجُرْ ﴿٥﴾
wal-ruj'za fa-uh'jur
اور ناپاکی سے دور رہو
وَلَا تَمْنُن تَسْتَكْثِرُ ﴿٦﴾
walā tamnun tastakthiru
اور (اس نیت سے) احسان نہ کرو کہ اس سے زیادہ کے طالب ہو
وَلِرَبِّكَ فَٱصْبِرْ ﴿٧﴾
walirabbika fa-iṣ'bir
اور اپنے پروردگار کے لئے صبر کرو
فَإِذَا نُقِرَ فِى ٱلنَّاقُورِ ﴿٨﴾
fa-idhā nuqira fī l-nāqūri
جب صور پھونکا جائے گا
فَذَٰلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ ﴿٩﴾
fadhālika yawma-idhin yawmun ʿasīrun
وہ دن کا مشکل دن ہوگا
عَلَى ٱلْكَـٰفِرِينَ غَيْرُ يَسِيرٍ ﴿١٠﴾
ʿalā l-kāfirīna ghayru yasīrin
(یعنی) کافروں پر آسان نہ ہوگا
ذَرْنِى وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا ﴿١١﴾
dharnī waman khalaqtu waḥīdan
ہمیں اس شخص سے سمجھ لینے دو جس کو ہم نے اکیلا پیدا کیا
وَجَعَلْتُ لَهُۥ مَالًا مَّمْدُودًا ﴿١٢﴾
wajaʿaltu lahu mālan mamdūdan
اور مال کثیر دیا
وَبَنِينَ شُهُودًا ﴿١٣﴾
wabanīna shuhūdan
اور (ہر وقت اس کے پاس) حاضر رہنے والے بیٹے دیئے
وَمَهَّدتُّ لَهُۥ تَمْهِيدًا ﴿١٤﴾
wamahhadttu lahu tamhīdan
اور ہر طرح کے سامان میں وسعت دی
ثُمَّ يَطْمَعُ أَنْ أَزِيدَ ﴿١٥﴾
thumma yaṭmaʿu an azīda
ابھی خواہش رکھتا ہے کہ اور زیادہ دیں
كَلَّآ ۖ إِنَّهُۥ كَانَ لِـَٔايَـٰتِنَا عَنِيدًا ﴿١٦﴾
kallā innahu kāna liāyātinā ʿanīdan
ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ یہ ہماری آیتیں کا دشمن رہا ہے
سَأُرْهِقُهُۥ صَعُودًا ﴿١٧﴾
sa-ur'hiquhu ṣaʿūdan
ہم اسے صعود پر چڑھائیں گے
إِنَّهُۥ فَكَّرَ وَقَدَّرَ ﴿١٨﴾
innahu fakkara waqaddara
اس نے فکر کیا اور تجویز کی
فَقُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ ﴿١٩﴾
faqutila kayfa qaddara
یہ مارا جائے اس نے کیسی تجویز کی
ثُمَّ قُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ ﴿٢٠﴾
thumma qutila kayfa qaddara
پھر یہ مارا جائے اس نے کیسی تجویز کی
ثُمَّ نَظَرَ ﴿٢١﴾
thumma naẓara
پھر تامل کیا
ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ ﴿٢٢﴾
thumma ʿabasa wabasara
پھر تیوری چڑھائی اور منہ بگاڑ لیا
ثُمَّ أَدْبَرَ وَٱسْتَكْبَرَ ﴿٢٣﴾
thumma adbara wa-is'takbara
پھر پشت پھیر کر چلا اور (قبول حق سے) غرور کیا
فَقَالَ إِنْ هَـٰذَآ إِلَّا سِحْرٌ يُؤْثَرُ ﴿٢٤﴾
faqāla in hādhā illā siḥ'run yu'tharu
پھر کہنے لگا کہ یہ تو جادو ہے جو (اگلوں سے) منتقل ہوتا آیا ہے
إِنْ هَـٰذَآ إِلَّا قَوْلُ ٱلْبَشَرِ ﴿٢٥﴾
in hādhā illā qawlu l-bashari
(پھر بولا) یہ (خدا کا کلام نہیں بلکہ) بشر کا کلام ہے
سَأُصْلِيهِ سَقَرَ ﴿٢٦﴾
sa-uṣ'līhi saqara
ہم عنقریب اس کو سقر میں داخل کریں گے
وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا سَقَرُ ﴿٢٧﴾
wamā adrāka mā saqaru
اور تم کیا سمجھے کہ سقر کیا ہے؟
لَا تُبْقِى وَلَا تَذَرُ ﴿٢٨﴾
lā tub'qī walā tadharu
(وہ آگ ہے کہ) نہ باقی رکھے گی اور نہ چھوڑے گی
لَوَّاحَةٌ لِّلْبَشَرِ ﴿٢٩﴾
lawwāḥatun lil'bashari
اور بدن جھلس کر سیاہ کردے گی
عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ ﴿٣٠﴾
ʿalayhā tis'ʿata ʿashara
اس پر اُنیس داروغہ ہیں
وَمَا جَعَلْنَآ أَصْحَـٰبَ ٱلنَّارِ إِلَّا مَلَـٰٓئِكَةً ۙ وَمَا جَعَلْنَا عِدَّتَهُمْ إِلَّا فِتْنَةً لِّلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لِيَسْتَيْقِنَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَـٰبَ وَيَزْدَادَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِيمَـٰنًا ۙ وَلَا يَرْتَابَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَـٰبَ وَٱلْمُؤْمِنُونَ ۙ وَلِيَقُولَ ٱلَّذِينَ فِى قُلُوبِهِم مَّرَضٌ وَٱلْكَـٰفِرُونَ مَاذَآ أَرَادَ ٱللَّهُ بِهَـٰذَا مَثَلًا ۚ كَذَٰلِكَ يُضِلُّ ٱللَّهُ مَن يَشَآءُ وَيَهْدِى مَن يَشَآءُ ۚ وَمَا يَعْلَمُ جُنُودَ رَبِّكَ إِلَّا هُوَ ۚ وَمَا هِىَ إِلَّا ذِكْرَىٰ لِلْبَشَرِ ﴿٣١﴾
wamā jaʿalnā aṣḥāba l-nāri illā malāikatan wamā jaʿalnā ʿiddatahum illā fit'natan lilladhīna kafarū liyastayqina alladhīna ūtū l-kitāba wayazdāda alladhīna āmanū īmānan walā yartāba alladhīna ūtū l-kitāba wal-mu'minūna waliyaqūla alladhīna fī qulūbihim maraḍun wal-kāfirūna mādhā arāda l-lahu bihādhā mathalan kadhālika yuḍillu l-lahu man yashāu wayahdī man yashāu wamā yaʿlamu junūda rabbika illā huwa wamā hiya illā dhik'rā lil'bashari
اور ہم نے دوزخ کے داروغہ فرشتے بنائے ہیں۔ اور ان کا شمار کافروں کی آزمائش کے لئے مقرر کیا ہے (اور) اس لئے کہ اہل کتاب یقین کریں اور مومنوں کا ایمان اور زیادہ ہو اور اہل کتاب اور مومن شک نہ لائیں۔ اور اس لئے کہ جن لوگوں کے دلوں میں (نفاق کا) مرض ہے اور (جو) کافر (ہیں) کہیں کہ اس مثال (کے بیان کرنے) سے خدا کا مقصد کیا ہے؟ اسی طرح خدا جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے اور تمہارے پروردگار کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور یہ تو بنی آدم کے لئے نصیحت ہے
كَلَّا وَٱلْقَمَرِ ﴿٣٢﴾
kallā wal-qamari
ہاں ہاں (ہمیں) چاند کی قسم
وَٱلَّيْلِ إِذْ أَدْبَرَ ﴿٣٣﴾
wa-al-layli idh adbara
اور رات کی جب پیٹھ پھیرنے لگے
وَٱلصُّبْحِ إِذَآ أَسْفَرَ ﴿٣٤﴾
wal-ṣub'ḥi idhā asfara
اور صبح کی جب روشن ہو
إِنَّهَا لَإِحْدَى ٱلْكُبَرِ ﴿٣٥﴾
innahā la-iḥ'dā l-kubari
کہ وہ (آگ) ایک بہت بڑی (آفت) ہے
نَذِيرًا لِّلْبَشَرِ ﴿٣٦﴾
nadhīran lil'bashari
(اور) بنی آدم کے لئے مؤجب خوف
لِمَن شَآءَ مِنكُمْ أَن يَتَقَدَّمَ أَوْ يَتَأَخَّرَ ﴿٣٧﴾
liman shāa minkum an yataqaddama aw yata-akhara
جو تم میں سے آگے بڑھنا چاہے یا پیچھے رہنا چاہے
كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ رَهِينَةٌ ﴿٣٨﴾
kullu nafsin bimā kasabat rahīnatun
ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے گرو ہے
إِلَّآ أَصْحَـٰبَ ٱلْيَمِينِ ﴿٣٩﴾
illā aṣḥāba l-yamīni
مگر داہنی طرف والے (نیک لوگ)
فِى جَنَّـٰتٍ يَتَسَآءَلُونَ ﴿٤٠﴾
fī jannātin yatasāalūna
(کہ) وہ باغہائے بہشت میں (ہوں گے اور) پوچھتے ہوں گے
عَنِ ٱلْمُجْرِمِينَ ﴿٤١﴾
ʿani l-muj'rimīna
(یعنی آگ میں جلنے والے) گنہگاروں سے
مَا سَلَكَكُمْ فِى سَقَرَ ﴿٤٢﴾
mā salakakum fī saqara
کہ تم دوزخ میں کیوں پڑے؟
قَالُوا۟ لَمْ نَكُ مِنَ ٱلْمُصَلِّينَ ﴿٤٣﴾
qālū lam naku mina l-muṣalīna
وہ جواب دیں گے کہ ہم نماز نہیں پڑھتے تھے
وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ ٱلْمِسْكِينَ ﴿٤٤﴾
walam naku nuṭ'ʿimu l-mis'kīna
اور نہ فقیروں کو کھانا کھلاتے تھے
وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ ٱلْخَآئِضِينَ ﴿٤٥﴾
wakunnā nakhūḍu maʿa l-khāiḍīna
اور اہل باطل کے ساتھ مل کر (حق سے) انکار کرتے تھے
وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ ٱلدِّينِ ﴿٤٦﴾
wakunnā nukadhibu biyawmi l-dīni
اور روز جزا کو جھٹلاتے تھے
حَتَّىٰٓ أَتَىٰنَا ٱلْيَقِينُ ﴿٤٧﴾
ḥattā atānā l-yaqīnu
یہاں تک کہ ہمیں موت آگئی
فَمَا تَنفَعُهُمْ شَفَـٰعَةُ ٱلشَّـٰفِعِينَ ﴿٤٨﴾
famā tanfaʿuhum shafāʿatu l-shāfiʿīna
(تو اس حال میں) سفارش کرنے والوں کی سفارش ان کے حق میں کچھ فائدہ نہ دے گی
فَمَا لَهُمْ عَنِ ٱلتَّذْكِرَةِ مُعْرِضِينَ ﴿٤٩﴾
famā lahum ʿani l-tadhkirati muʿ'riḍīna
ان کو کیا ہوا ہے کہ نصیحت سے روگرداں ہو رہے ہیں
كَأَنَّهُمْ حُمُرٌ مُّسْتَنفِرَةٌ ﴿٥٠﴾
ka-annahum ḥumurun mus'tanfiratun
گویا گدھے ہیں کہ بدک جاتے ہیں
فَرَّتْ مِن قَسْوَرَةٍۭ ﴿٥١﴾
farrat min qaswaratin
(یعنی) شیر سے ڈر کر بھاگ جاتے ہیں
بَلْ يُرِيدُ كُلُّ ٱمْرِئٍ مِّنْهُمْ أَن يُؤْتَىٰ صُحُفًا مُّنَشَّرَةً ﴿٥٢﴾
bal yurīdu kullu im'ri-in min'hum an yu'tā ṣuḥufan munasharatan
اصل یہ ہے کہ ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس کھلی ہوئی کتاب آئے
كَلَّا ۖ بَل لَّا يَخَافُونَ ٱلْـَٔاخِرَةَ ﴿٥٣﴾
kallā bal lā yakhāfūna l-ākhirata
ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کو آخرت کا خوف ہی نہیں
كَلَّآ إِنَّهُۥ تَذْكِرَةٌ ﴿٥٤﴾
kallā innahu tadhkiratun
کچھ شک نہیں کہ یہ نصیحت ہے
فَمَن شَآءَ ذَكَرَهُۥ ﴿٥٥﴾
faman shāa dhakarahu
تو جو چاہے اسے یاد رکھے
وَمَا يَذْكُرُونَ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُ ۚ هُوَ أَهْلُ ٱلتَّقْوَىٰ وَأَهْلُ ٱلْمَغْفِرَةِ ﴿٥٦﴾
wamā yadhkurūna illā an yashāa l-lahu huwa ahlu l-taqwā wa-ahlu l-maghfirati
اور یاد بھی تب ہی رکھیں گے جب خدا چاہے۔ وہی ڈرنے کے لائق اور بخشش کا مالک ہے