سَأَلَسَآئِلٌۢبِعَذَابٍۢوَاقِعٍۢ﴿١﴾
sa-ala sāilun biʿadhābin wāqiʿin
ایک طلب کرنے والے نے عذاب طلب کیا جو نازل ہو کر رہے گا
سورت 70 · 44 آیات
سورة المعارج
عروج
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
سَأَلَسَآئِلٌۢبِعَذَابٍۢوَاقِعٍۢ﴿١﴾
sa-ala sāilun biʿadhābin wāqiʿin
ایک طلب کرنے والے نے عذاب طلب کیا جو نازل ہو کر رہے گا
لِّلْكَـٰفِرِينَ لَيْسَ لَهُۥ دَافِعٌ ﴿٢﴾
lil'kāfirīna laysa lahu dāfiʿun
(یعنی) کافروں پر (اور) کوئی اس کو ٹال نہ سکے گا
مِّنَ ٱللَّهِ ذِى ٱلْمَعَارِجِ ﴿٣﴾
mina l-lahi dhī l-maʿāriji
(اور وہ) خدائے صاحب درجات کی طرف سے (نازل ہوگا)
تَعْرُجُ ٱلْمَلَـٰٓئِكَةُ وَٱلرُّوحُ إِلَيْهِ فِى يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُۥ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ ﴿٤﴾
taʿruju l-malāikatu wal-rūḥu ilayhi fī yawmin kāna miq'dāruhu khamsīna alfa sanatin
جس کی طرف روح (الامین) اور فرشتے پڑھتے ہیں (اور) اس روز (نازل ہوگا) جس کا اندازہ پچاس ہزار برس کا ہوگا
فَٱصْبِرْ صَبْرًا جَمِيلًا ﴿٥﴾
fa-iṣ'bir ṣabran jamīlan
(تو تم کافروں کی باتوں کو) قوت کے ساتھ برداشت کرتے رہو
إِنَّهُمْ يَرَوْنَهُۥ بَعِيدًا ﴿٦﴾
innahum yarawnahu baʿīdan
وہ ان لوگوں کی نگاہ میں دور ہے
وَنَرَىٰهُ قَرِيبًا ﴿٧﴾
wanarāhu qarīban
اور ہماری نظر میں نزدیک
يَوْمَ تَكُونُ ٱلسَّمَآءُ كَٱلْمُهْلِ ﴿٨﴾
yawma takūnu l-samāu kal-muh'li
جس دن آسمان ایسا ہو جائے گا جیسے پگھلا ہوا تانبا
وَتَكُونُ ٱلْجِبَالُ كَٱلْعِهْنِ ﴿٩﴾
watakūnu l-jibālu kal-ʿih'ni
اور پہاڑ (ایسے) جیسے (دھنکی ہوئی) رنگین اون
وَلَا يَسْـَٔلُ حَمِيمٌ حَمِيمًا ﴿١٠﴾
walā yasalu ḥamīmun ḥamīman
اور کوئی دوست کسی دوست کا پرسان نہ ہوگا
يُبَصَّرُونَهُمْ ۚ يَوَدُّ ٱلْمُجْرِمُ لَوْ يَفْتَدِى مِنْ عَذَابِ يَوْمِئِذٍۭ بِبَنِيهِ ﴿١١﴾
yubaṣṣarūnahum yawaddu l-muj'rimu law yaftadī min ʿadhābi yawmi-idhin bibanīhi
ایک دوسرے کو سامنے دیکھ رہے ہوں گے (اس روز) گنہگار خواہش کرے گا کہ کسی طرح اس دن کے عذاب کے بدلے میں (سب کچھ) دے دے یعنی اپنے بیٹے
وَصَـٰحِبَتِهِۦ وَأَخِيهِ ﴿١٢﴾
waṣāḥibatihi wa-akhīhi
اور اپنی بیوی اور اپنے بھائی
وَفَصِيلَتِهِ ٱلَّتِى تُـْٔوِيهِ ﴿١٣﴾
wafaṣīlatihi allatī tu'wīhi
اور اپنا خاندان جس میں وہ رہتا تھا
وَمَن فِى ٱلْأَرْضِ جَمِيعًا ثُمَّ يُنجِيهِ ﴿١٤﴾
waman fī l-arḍi jamīʿan thumma yunjīhi
اور جتنے آدمی زمین میں ہیں (غرض) سب (کچھ دے دے) اور اپنے تئیں عذاب سے چھڑا لے
كَلَّآ ۖ إِنَّهَا لَظَىٰ ﴿١٥﴾
kallā innahā laẓā
(لیکن) ایسا ہرگز نہیں ہوگا وہ بھڑکتی ہوئی آگ ہے
نَزَّاعَةً لِّلشَّوَىٰ ﴿١٦﴾
nazzāʿatan lilshawā
کھال ادھیڑ ڈالنے والی
تَدْعُوا۟ مَنْ أَدْبَرَ وَتَوَلَّىٰ ﴿١٧﴾
tadʿū man adbara watawallā
ان لوگوں کو اپنی طرف بلائے گی جنہوں نے (دین حق سے) اعراض کیا
وَجَمَعَ فَأَوْعَىٰٓ ﴿١٨﴾
wajamaʿa fa-awʿā
اور (مال )جمع کیا اور بند کر رکھا
۞ إِنَّ ٱلْإِنسَـٰنَ خُلِقَ هَلُوعًا ﴿١٩﴾
inna l-insāna khuliqa halūʿan
کچھ شک نہیں کہ انسان کم حوصلہ پیدا ہوا ہے
إِذَا مَسَّهُ ٱلشَّرُّ جَزُوعًا ﴿٢٠﴾
idhā massahu l-sharu jazūʿan
جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو گھبرا اٹھتا ہے
وَإِذَا مَسَّهُ ٱلْخَيْرُ مَنُوعًا ﴿٢١﴾
wa-idhā massahu l-khayru manūʿan
اور جب آسائش حاصل ہوتی ہے تو بخیل بن جاتا ہے
إِلَّا ٱلْمُصَلِّينَ ﴿٢٢﴾
illā l-muṣalīna
مگر نماز گزار
ٱلَّذِينَ هُمْ عَلَىٰ صَلَاتِهِمْ دَآئِمُونَ ﴿٢٣﴾
alladhīna hum ʿalā ṣalātihim dāimūna
جو نماز کا التزام رکھتے (اور بلاناغہ پڑھتے) ہیں
وَٱلَّذِينَ فِىٓ أَمْوَٰلِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُومٌ ﴿٢٤﴾
wa-alladhīna fī amwālihim ḥaqqun maʿlūmun
اور جن کے مال میں حصہ مقرر ہے
لِّلسَّآئِلِ وَٱلْمَحْرُومِ ﴿٢٥﴾
lilssāili wal-maḥrūmi
(یعنی) مانگنے والے کا۔ اور نہ مانگے والے والا کا
وَٱلَّذِينَ يُصَدِّقُونَ بِيَوْمِ ٱلدِّينِ ﴿٢٦﴾
wa-alladhīna yuṣaddiqūna biyawmi l-dīni
اور جو روز جزا کو سچ سمجھتے ہیں
وَٱلَّذِينَ هُم مِّنْ عَذَابِ رَبِّهِم مُّشْفِقُونَ ﴿٢٧﴾
wa-alladhīna hum min ʿadhābi rabbihim mush'fiqūna
اور جو اپنے پروردگار کے عذاب سے خوف رکھتے ہیں
إِنَّ عَذَابَ رَبِّهِمْ غَيْرُ مَأْمُونٍ ﴿٢٨﴾
inna ʿadhāba rabbihim ghayru mamūnin
بےشک ان کے پروردگار کا عذاب ہے ہی ایسا کہ اس سے بےخوف نہ ہوا جائے
وَٱلَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَـٰفِظُونَ ﴿٢٩﴾
wa-alladhīna hum lifurūjihim ḥāfiẓūna
اور جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں
إِلَّا عَلَىٰٓ أَزْوَٰجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَـٰنُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ ﴿٣٠﴾
illā ʿalā azwājihim aw mā malakat aymānuhum fa-innahum ghayru malūmīna
مگر اپنی بیویوں یا لونڈیوں سے کہ (ان کے پاس جانے پر) انہیں کچھ ملامت نہیں
فَمَنِ ٱبْتَغَىٰ وَرَآءَ ذَٰلِكَ فَأُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْعَادُونَ ﴿٣١﴾
famani ib'taghā warāa dhālika fa-ulāika humu l-ʿādūna
اور جو لوگ ان کے سوا اور کے خواستگار ہوں وہ حد سے نکل جانے والے ہیں
وَٱلَّذِينَ هُمْ لِأَمَـٰنَـٰتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رَٰعُونَ ﴿٣٢﴾
wa-alladhīna hum li-amānātihim waʿahdihim rāʿūna
اور جو اپنی امانتوں اور اقراروں کا پاس کرتے ہیں
وَٱلَّذِينَ هُم بِشَهَـٰدَٰتِهِمْ قَآئِمُونَ ﴿٣٣﴾
wa-alladhīna hum bishahādātihim qāimūna
اور جو اپنی شہادتوں پر قائم رہتے ہیں
وَٱلَّذِينَ هُمْ عَلَىٰ صَلَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ ﴿٣٤﴾
wa-alladhīna hum ʿalā ṣalātihim yuḥāfiẓūna
اور جو اپنی نماز کی خبر رکھتے ہیں
أُو۟لَـٰٓئِكَ فِى جَنَّـٰتٍ مُّكْرَمُونَ ﴿٣٥﴾
ulāika fī jannātin muk'ramūna
یہی لوگ باغہائے بہشت میں عزت واکرام سے ہوں گے
فَمَالِ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ قِبَلَكَ مُهْطِعِينَ ﴿٣٦﴾
famāli alladhīna kafarū qibalaka muh'ṭiʿīna
تو ان کافروں کو کیا ہوا ہے کہ تمہاری طرف دوڑے چلے آتے ہیں
عَنِ ٱلْيَمِينِ وَعَنِ ٱلشِّمَالِ عِزِينَ ﴿٣٧﴾
ʿani l-yamīni waʿani l-shimāli ʿizīna
اور) دائیں بائیں سے گروہ گروہ ہو کر (جمع ہوتے جاتے ہیں)
أَيَطْمَعُ كُلُّ ٱمْرِئٍ مِّنْهُمْ أَن يُدْخَلَ جَنَّةَ نَعِيمٍ ﴿٣٨﴾
ayaṭmaʿu kullu im'ri-in min'hum an yud'khala jannata naʿīmin
کیا ان میں سے ہر شخص یہ توقع رکھتا ہے کہ نعمت کے باغ میں داخل کیا جائے گا
كَلَّآ ۖ إِنَّا خَلَقْنَـٰهُم مِّمَّا يَعْلَمُونَ ﴿٣٩﴾
kallā innā khalaqnāhum mimmā yaʿlamūna
ہرگز نہیں۔ ہم نے ان کو اس چیز سے پیدا کیا ہے جسے وہ جانتے ہیں
فَلَآ أُقْسِمُ بِرَبِّ ٱلْمَشَـٰرِقِ وَٱلْمَغَـٰرِبِ إِنَّا لَقَـٰدِرُونَ ﴿٤٠﴾
falā uq'simu birabbi l-mashāriqi wal-maghāribi innā laqādirūna
ہمیں مشرقوں اور مغربوں کے مالک کی قسم کہ ہم طاقت رکھتے ہیں
عَلَىٰٓ أَن نُّبَدِّلَ خَيْرًا مِّنْهُمْ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوقِينَ ﴿٤١﴾
ʿalā an nubaddila khayran min'hum wamā naḥnu bimasbūqīna
(یعنی) اس بات پر (قادر ہیں) کہ ان سے بہتر لوگ بدل لائیں اور ہم عاجز نہیں ہیں
فَذَرْهُمْ يَخُوضُوا۟ وَيَلْعَبُوا۟ حَتَّىٰ يُلَـٰقُوا۟ يَوْمَهُمُ ٱلَّذِى يُوعَدُونَ ﴿٤٢﴾
fadharhum yakhūḍū wayalʿabū ḥattā yulāqū yawmahumu alladhī yūʿadūna
تو (اے پیغمبر) ان کو باطل میں پڑے رہنے اور کھیل لینے دو یہاں تک کہ جس دن کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ ان کے سامنے آ موجود ہو
يَوْمَ يَخْرُجُونَ مِنَ ٱلْأَجْدَاثِ سِرَاعًا كَأَنَّهُمْ إِلَىٰ نُصُبٍ يُوفِضُونَ ﴿٤٣﴾
yawma yakhrujūna mina l-ajdāthi sirāʿan ka-annahum ilā nuṣubin yūfiḍūna
اس دن یہ قبر سے نکل کر (اس طرح) دوڑیں گے جیسے (شکاری) شکار کے جال کی طرف دوڑتے ہیں
خَـٰشِعَةً أَبْصَـٰرُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ ۚ ذَٰلِكَ ٱلْيَوْمُ ٱلَّذِى كَانُوا۟ يُوعَدُونَ ﴿٤٤﴾
khāshiʿatan abṣāruhum tarhaquhum dhillatun dhālika l-yawmu alladhī kānū yūʿadūna
ان کی آنکھیں جھک رہی ہوں گی اور ذلت ان پر چھا رہی ہوگی۔ یہی وہ دن ہے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا تھا