وَٱلنَّجْمِإِذَاهَوَىٰ﴿١﴾
wal-najmi idhā hawā
تارے کی قسم جب غائب ہونے لگے
سورت 53 · 62 آیات
سورة النجم
ستارہ
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
وَٱلنَّجْمِإِذَاهَوَىٰ﴿١﴾
wal-najmi idhā hawā
تارے کی قسم جب غائب ہونے لگے
مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوَىٰ ﴿٢﴾
mā ḍalla ṣāḥibukum wamā ghawā
کہ تمہارے رفیق (محمدﷺ) نہ رستہ بھولے ہیں نہ بھٹکے ہیں
وَمَا يَنطِقُ عَنِ ٱلْهَوَىٰٓ ﴿٣﴾
wamā yanṭiqu ʿani l-hawā
اور نہ خواہش نفس سے منہ سے بات نکالتے ہیں
إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْىٌ يُوحَىٰ ﴿٤﴾
in huwa illā waḥyun yūḥā
یہ (قرآن) تو حکم خدا ہے جو (ان کی طرف) بھیجا جاتا ہے
عَلَّمَهُۥ شَدِيدُ ٱلْقُوَىٰ ﴿٥﴾
ʿallamahu shadīdu l-quwā
ان کو نہایت قوت والے نے سکھایا
ذُو مِرَّةٍ فَٱسْتَوَىٰ ﴿٦﴾
dhū mirratin fa-is'tawā
(یعنی جبرائیل) طاقتور نے پھر وہ پورے نظر آئے
وَهُوَ بِٱلْأُفُقِ ٱلْأَعْلَىٰ ﴿٧﴾
wahuwa bil-ufuqi l-aʿlā
اور وہ (آسمان کے) اونچے کنارے میں تھے
ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّىٰ ﴿٨﴾
thumma danā fatadallā
پھر قریب ہوئے اوراَور آگے بڑھے
فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَىٰ ﴿٩﴾
fakāna qāba qawsayni aw adnā
تو دو کمان کے فاصلے پر یا اس سے بھی کم
فَأَوْحَىٰٓ إِلَىٰ عَبْدِهِۦ مَآ أَوْحَىٰ ﴿١٠﴾
fa-awḥā ilā ʿabdihi mā awḥā
پھر خدا نے اپنے بندے کی طرف جو بھیجا سو بھیجا
مَا كَذَبَ ٱلْفُؤَادُ مَا رَأَىٰٓ ﴿١١﴾
mā kadhaba l-fuādu mā raā
جو کچھ انہوں نے دیکھا ان کے دل نے اس کو جھوٹ نہ مانا
أَفَتُمَـٰرُونَهُۥ عَلَىٰ مَا يَرَىٰ ﴿١٢﴾
afatumārūnahu ʿalā mā yarā
کیا جو کچھ وہ دیکھتے ہیں تم اس میں ان سے جھگڑتے ہو؟
وَلَقَدْ رَءَاهُ نَزْلَةً أُخْرَىٰ ﴿١٣﴾
walaqad raāhu nazlatan ukh'rā
اور انہوں نے اس کو ایک بار بھی دیکھا ہے
عِندَ سِدْرَةِ ٱلْمُنتَهَىٰ ﴿١٤﴾
ʿinda sid'rati l-muntahā
پرلی حد کی بیری کے پاس
عِندَهَا جَنَّةُ ٱلْمَأْوَىٰٓ ﴿١٥﴾
ʿindahā jannatu l-mawā
اسی کے پاس رہنے کی جنت ہے
إِذْ يَغْشَى ٱلسِّدْرَةَ مَا يَغْشَىٰ ﴿١٦﴾
idh yaghshā l-sid'rata mā yaghshā
جب کہ اس بیری پر چھا رہا تھا جو چھا رہا تھا
مَا زَاغَ ٱلْبَصَرُ وَمَا طَغَىٰ ﴿١٧﴾
mā zāgha l-baṣaru wamā ṭaghā
ان کی آنکھ نہ تو اور طرف مائل ہوئی اور نہ (حد سے) آگے بڑھی
لَقَدْ رَأَىٰ مِنْ ءَايَـٰتِ رَبِّهِ ٱلْكُبْرَىٰٓ ﴿١٨﴾
laqad raā min āyāti rabbihi l-kub'rā
انہوں نے اپنے پروردگار (کی قدرت) کی کتنی ہی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں
أَفَرَءَيْتُمُ ٱللَّـٰتَ وَٱلْعُزَّىٰ ﴿١٩﴾
afara-aytumu l-lāta wal-ʿuzā
بھلا تم لوگوں نے لات اور عزیٰ کو دیکھا
وَمَنَوٰةَ ٱلثَّالِثَةَ ٱلْأُخْرَىٰٓ ﴿٢٠﴾
wamanata l-thālithata l-ukh'rā
اور تیسرے منات کو (کہ یہ بت کہیں خدا ہوسکتے ہیں)
أَلَكُمُ ٱلذَّكَرُ وَلَهُ ٱلْأُنثَىٰ ﴿٢١﴾
alakumu l-dhakaru walahu l-unthā
(مشرکو!) کیا تمہارے لئے تو بیٹے اور خدا کے لئے بیٹیاں
تِلْكَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِيزَىٰٓ ﴿٢٢﴾
til'ka idhan qis'matun ḍīzā
یہ تقسیم تو بہت بےانصافی کی ہے
إِنْ هِىَ إِلَّآ أَسْمَآءٌ سَمَّيْتُمُوهَآ أَنتُمْ وَءَابَآؤُكُم مَّآ أَنزَلَ ٱللَّهُ بِهَا مِن سُلْطَـٰنٍ ۚ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا ٱلظَّنَّ وَمَا تَهْوَى ٱلْأَنفُسُ ۖ وَلَقَدْ جَآءَهُم مِّن رَّبِّهِمُ ٱلْهُدَىٰٓ ﴿٢٣﴾
in hiya illā asmāon sammaytumūhā antum waābāukum mā anzala l-lahu bihā min sul'ṭānin in yattabiʿūna illā l-ẓana wamā tahwā l-anfusu walaqad jāahum min rabbihimu l-hudā
وہ تو صرف نام ہی نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے گھڑ لئے ہیں۔ خدا نے تو ان کی کوئی سند نازل نہیں کی۔ یہ لوگ محض ظن (فاسد) اور خواہشات نفس کے پیچھے چل رہے ہیں۔ حالانکہ ان کے پروردگار کی طرف سے ان کے پاس ہدایت آچکی ہے
أَمْ لِلْإِنسَـٰنِ مَا تَمَنَّىٰ ﴿٢٤﴾
am lil'insāni mā tamannā
کیا جس چیز کی انسان آرزو کرتا ہے وہ اسے ضرور ملتی ہے
فَلِلَّهِ ٱلْـَٔاخِرَةُ وَٱلْأُولَىٰ ﴿٢٥﴾
falillahi l-ākhiratu wal-ūlā
آخرت اور دنیا تو الله ہی کے ہاتھ میں ہے
۞ وَكَم مِّن مَّلَكٍ فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ لَا تُغْنِى شَفَـٰعَتُهُمْ شَيْـًٔا إِلَّا مِنۢ بَعْدِ أَن يَأْذَنَ ٱللَّهُ لِمَن يَشَآءُ وَيَرْضَىٰٓ ﴿٢٦﴾
wakam min malakin fī l-samāwāti lā tugh'nī shafāʿatuhum shayan illā min baʿdi an yadhana l-lahu liman yashāu wayarḍā
اور آسمانوں میں بہت سے فرشتے ہیں جن کی سفارش کچھ بھی فائدہ نہیں دیتی مگر اس وقت کہ خدا جس کے لئے چاہے اجازت بخشے اور (سفارش) پسند کرے
إِنَّ ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِٱلْـَٔاخِرَةِ لَيُسَمُّونَ ٱلْمَلَـٰٓئِكَةَ تَسْمِيَةَ ٱلْأُنثَىٰ ﴿٢٧﴾
inna alladhīna lā yu'minūna bil-ākhirati layusammūna l-malāikata tasmiyata l-unthā
جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے وہ فرشتوں کو (خدا کی) لڑکیوں کے نام سے موسوم کرتے ہیں
وَمَا لَهُم بِهِۦ مِنْ عِلْمٍ ۖ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا ٱلظَّنَّ ۖ وَإِنَّ ٱلظَّنَّ لَا يُغْنِى مِنَ ٱلْحَقِّ شَيْـًٔا ﴿٢٨﴾
wamā lahum bihi min ʿil'min in yattabiʿūna illā l-ẓana wa-inna l-ẓana lā yugh'nī mina l-ḥaqi shayan
حالانکہ ان کو اس کی کچھ خبر نہیں۔ وہ صرف ظن پر چلتے ہیں۔ اور ظن یقین کے مقابلے میں کچھ کام نہیں آتا
فَأَعْرِضْ عَن مَّن تَوَلَّىٰ عَن ذِكْرِنَا وَلَمْ يُرِدْ إِلَّا ٱلْحَيَوٰةَ ٱلدُّنْيَا ﴿٢٩﴾
fa-aʿriḍ ʿan man tawallā ʿan dhik'rinā walam yurid illā l-ḥayata l-dun'yā
تو جو ہماری یاد سے روگردانی اور صرف دنیا ہی کی زندگی کا خواہاں ہو اس سے تم بھی منہ پھیر لو
ذَٰلِكَ مَبْلَغُهُم مِّنَ ٱلْعِلْمِ ۚ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِۦ وَهُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ ٱهْتَدَىٰ ﴿٣٠﴾
dhālika mablaghuhum mina l-ʿil'mi inna rabbaka huwa aʿlamu biman ḍalla ʿan sabīlihi wahuwa aʿlamu bimani ih'tadā
ان کے علم کی انتہا یہی ہے۔ تمہارا پروردگار اس کو بھی خوب جانتا ہے جو اس کے رستے سے بھٹک گیا اور اس سے بھی خوب واقف ہے جو رستے پر چلا
وَلِلَّهِ مَا فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ لِيَجْزِىَ ٱلَّذِينَ أَسَـٰٓـُٔوا۟ بِمَا عَمِلُوا۟ وَيَجْزِىَ ٱلَّذِينَ أَحْسَنُوا۟ بِٱلْحُسْنَى ﴿٣١﴾
walillahi mā fī l-samāwāti wamā fī l-arḍi liyajziya alladhīna asāū bimā ʿamilū wayajziya alladhīna aḥsanū bil-ḥus'nā
اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے (اور اس نے خلقت کو) اس لئے (پیدا کیا ہے) کہ جن لوگوں نے برے کام کئے ان کو ان کے اعمال کا (برا) بدلا دے اور جنہوں نے نیکیاں کیں ان کو نیک بدلہ دے
ٱلَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَـٰٓئِرَ ٱلْإِثْمِ وَٱلْفَوَٰحِشَ إِلَّا ٱللَّمَمَ ۚ إِنَّ رَبَّكَ وَٰسِعُ ٱلْمَغْفِرَةِ ۚ هُوَ أَعْلَمُ بِكُمْ إِذْ أَنشَأَكُم مِّنَ ٱلْأَرْضِ وَإِذْ أَنتُمْ أَجِنَّةٌ فِى بُطُونِ أُمَّهَـٰتِكُمْ ۖ فَلَا تُزَكُّوٓا۟ أَنفُسَكُمْ ۖ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ ٱتَّقَىٰٓ ﴿٣٢﴾
alladhīna yajtanibūna kabāira l-ith'mi wal-fawāḥisha illā l-lamama inna rabbaka wāsiʿu l-maghfirati huwa aʿlamu bikum idh ansha-akum mina l-arḍi wa-idh antum ajinnatun fī buṭūni ummahātikum falā tuzakkū anfusakum huwa aʿlamu bimani ittaqā
جو صغیرہ گناہوں کے سوا بڑے بڑے گناہوں اور بےحیائی کی باتوں سے اجتناب کرتے ہیں۔ بےشک تمہارا پروردگار بڑی بخشش والا ہے۔ وہ تم کو خوب جانتا ہے۔ جب اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں بچّے تھے۔ تو اپنے آپ کو پاک صاف نہ جتاؤ۔ جو پرہیزگار ہے وہ اس سے خوب واقف ہے
أَفَرَءَيْتَ ٱلَّذِى تَوَلَّىٰ ﴿٣٣﴾
afara-ayta alladhī tawallā
بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے منہ پھیر لیا
وَأَعْطَىٰ قَلِيلًا وَأَكْدَىٰٓ ﴿٣٤﴾
wa-aʿṭā qalīlan wa-akdā
اور تھوڑا سا دیا (پھر) ہاتھ روک لیا
أَعِندَهُۥ عِلْمُ ٱلْغَيْبِ فَهُوَ يَرَىٰٓ ﴿٣٥﴾
aʿindahu ʿil'mu l-ghaybi fahuwa yarā
کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے کہ وہ اس کو دیکھ رہا ہے
أَمْ لَمْ يُنَبَّأْ بِمَا فِى صُحُفِ مُوسَىٰ ﴿٣٦﴾
am lam yunabba bimā fī ṣuḥufi mūsā
کیا جو باتیں موسیٰ کے صحیفوں میں ہیں ان کی اس کو خبر نہیں پہنچی
وَإِبْرَٰهِيمَ ٱلَّذِى وَفَّىٰٓ ﴿٣٧﴾
wa-ib'rāhīma alladhī waffā
اور ابراہیمؑ کی جنہوں نے (حق طاعت ورسالت) پورا کیا
أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ ﴿٣٨﴾
allā taziru wāziratun wiz'ra ukh'rā
یہ کہ کوئی شخص دوسرے (کے گناہ) کا بوجھ نہیں اٹھائے گا
وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَـٰنِ إِلَّا مَا سَعَىٰ ﴿٣٩﴾
wa-an laysa lil'insāni illā mā saʿā
اور یہ کہ انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے
وَأَنَّ سَعْيَهُۥ سَوْفَ يُرَىٰ ﴿٤٠﴾
wa-anna saʿyahu sawfa yurā
اور یہ کہ اس کی کوشش دیکھی جائے گی
ثُمَّ يُجْزَىٰهُ ٱلْجَزَآءَ ٱلْأَوْفَىٰ ﴿٤١﴾
thumma yuj'zāhu l-jazāa l-awfā
پھر اس کو اس کا پورا پورا بدلا دیا جائے گا
وَأَنَّ إِلَىٰ رَبِّكَ ٱلْمُنتَهَىٰ ﴿٤٢﴾
wa-anna ilā rabbika l-muntahā
اور یہ کہ تمہارے پروردگار ہی کے پاس پہنچنا ہے
وَأَنَّهُۥ هُوَ أَضْحَكَ وَأَبْكَىٰ ﴿٤٣﴾
wa-annahu huwa aḍḥaka wa-abkā
اور یہ کہ وہ ہنساتا اور رلاتا ہے
وَأَنَّهُۥ هُوَ أَمَاتَ وَأَحْيَا ﴿٤٤﴾
wa-annahu huwa amāta wa-aḥyā
اور یہ کہ وہی مارتا اور جلاتا ہے
وَأَنَّهُۥ خَلَقَ ٱلزَّوْجَيْنِ ٱلذَّكَرَ وَٱلْأُنثَىٰ ﴿٤٥﴾
wa-annahu khalaqa l-zawjayni l-dhakara wal-unthā
اور یہ کہ وہی نر اور مادہ دو قسم (کے حیوان) پیدا کرتا ہے
مِن نُّطْفَةٍ إِذَا تُمْنَىٰ ﴿٤٦﴾
min nuṭ'fatin idhā tum'nā
(یعنی) نطفے سے جو (رحم میں) ڈالا جاتا ہے
وَأَنَّ عَلَيْهِ ٱلنَّشْأَةَ ٱلْأُخْرَىٰ ﴿٤٧﴾
wa-anna ʿalayhi l-nashata l-ukh'rā
اور یہ کہ (قیامت کو) اسی پر دوبارہ اٹھانا لازم ہے
وَأَنَّهُۥ هُوَ أَغْنَىٰ وَأَقْنَىٰ ﴿٤٨﴾
wa-annahu huwa aghnā wa-aqnā
اور یہ کہ وہی دولت مند بناتا اور مفلس کرتا ہے
وَأَنَّهُۥ هُوَ رَبُّ ٱلشِّعْرَىٰ ﴿٤٩﴾
wa-annahu huwa rabbu l-shiʿ'rā
اور یہ کہ وہی شعریٰ کا مالک ہے
وَأَنَّهُۥٓ أَهْلَكَ عَادًا ٱلْأُولَىٰ ﴿٥٠﴾
wa-annahu ahlaka ʿādan l-ūlā
اور یہ کہ اسی نے عاد اول کو ہلاک کر ڈالا
وَثَمُودَا۟ فَمَآ أَبْقَىٰ ﴿٥١﴾
wathamūdā famā abqā
اور ثمود کو بھی۔ غرض کسی کو باقی نہ چھوڑا
وَقَوْمَ نُوحٍ مِّن قَبْلُ ۖ إِنَّهُمْ كَانُوا۟ هُمْ أَظْلَمَ وَأَطْغَىٰ ﴿٥٢﴾
waqawma nūḥin min qablu innahum kānū hum aẓlama wa-aṭghā
اور ان سے پہلے قوم نوحؑ کو بھی۔ کچھ شک نہیں کہ وہ لوگ بڑے ہی ظالم اور بڑے ہی سرکش تھے
وَٱلْمُؤْتَفِكَةَ أَهْوَىٰ ﴿٥٣﴾
wal-mu'tafikata ahwā
اور اسی نے الٹی ہوئی بستیوں کو دے پٹکا
فَغَشَّىٰهَا مَا غَشَّىٰ ﴿٥٤﴾
faghashāhā mā ghashā
پھر ان پر چھایا جو چھایا
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكَ تَتَمَارَىٰ ﴿٥٥﴾
fabi-ayyi ālāi rabbika tatamārā
تو (اے انسان) تو اپنے پروردگار کی کون سی نعمت پر جھگڑے گا
هَـٰذَا نَذِيرٌ مِّنَ ٱلنُّذُرِ ٱلْأُولَىٰٓ ﴿٥٦﴾
hādhā nadhīrun mina l-nudhuri l-ūlā
یہ (محمدﷺ) بھی اگلے ڈر سنانے والوں میں سے ایک ڈر سنانے والے ہیں
أَزِفَتِ ٱلْـَٔازِفَةُ ﴿٥٧﴾
azifati l-āzifatu
آنے والی (یعنی قیامت) قریب آ پہنچی
لَيْسَ لَهَا مِن دُونِ ٱللَّهِ كَاشِفَةٌ ﴿٥٨﴾
laysa lahā min dūni l-lahi kāshifatun
اس (دن کی تکلیفوں) کو خدا کے سوا کوئی دور نہیں کرسکے گا
أَفَمِنْ هَـٰذَا ٱلْحَدِيثِ تَعْجَبُونَ ﴿٥٩﴾
afamin hādhā l-ḥadīthi taʿjabūna
اے منکرین خدا) کیا تم اس کلام سے تعجب کرتے ہو؟
وَتَضْحَكُونَ وَلَا تَبْكُونَ ﴿٦٠﴾
wataḍḥakūna walā tabkūna
اور ہنستے ہو اور روتے نہیں؟
وَأَنتُمْ سَـٰمِدُونَ ﴿٦١﴾
wa-antum sāmidūna
اور تم غفلت میں پڑ رہے ہو
فَٱسْجُدُوا۟ لِلَّهِ وَٱعْبُدُوا۟ ۩ ﴿٦٢﴾
fa-us'judū lillahi wa-uʿ'budū
تو خدا کے آگے سجدہ کرو اور (اسی کی) عبادت کرو